کاش آپ ہمارے ہوتے
آپ تو خواہ مخواہ ہی مجھ پر ہر وقت شک کرتی رہتیں ہیں۔قسم سے میں تو اس طرف سوچتا بھی نہیں۔آپ
کو نہ جانے کیسے یہ خیال آ جاتا ہے۔میں تو بس اپنے کام سے کام رکھتا ہوں اور آپ بس شک ہی کئے جاتیں ہیں مجھ پر ۔ندیم کافی دیر سے اپنی ماں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کسی صورت بھی نائلہ میں دلچسپی نہیں رکھتا۔کیونکہ اسکی ماں ہر وقت ایک ہی بات سوچتی تھی کہ ندیم نائیلہ میں کسی قسم کی دلچسپی رکھے ہوئے ہے۔آخر کیوں نہ سوچتی ایک دن ندیم کی چوری اس نے پکڑ لی تھی جو بیٹھک کی کھڑکی سے چوری چوری گھر سے نکلتی ہوئی نائلہ کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔وہ یوں تو ہر وقت ماں کو یہی بات باور کروانے کی کوشش کیا کرتا تھا کہ اس کی دلچسپی نائیلہ میں نہیں ہے مگر صورت حال اسکے برعکس تھی وہ نہ صرف نائیلہ کو پسند کرتا تھا بلکہ وہ اسکے خوابوں کی رانی تھی جس کے ساتھ ہمیشہ اس نے سہانے سپنے دیکھے تھے ۔وہ بغیر کسی شہوانی جذبات کے اس سے عشقیہ حد تک پیار کرتا تھا۔جو صرف چوری چوری دیکھنے کی حد تک ہی تھا مگر تھا سچا،کھرا اور سُچا پیار۔نائیلہ کے علاوہ اسکی دنیا میں کوئی اور لڑکی نہ کبھی آئی تھی اور نہ کبھی آنے والی تھی۔
وہ ہمیشہ کوشش ہی کرتا رہتا تھا کہ کسی طرح نائیلہ سے حالِ دل کہہ دے مگر شرافت نے اس کو کسی حد تک بزدل بنا ڈالا تھا جو بات لوگ لمحوں میں کہہ ڈالتے تھے اس بات کو کہنے میں اسکو سخت پریشانی کا سامنا تھا اور بات اسکے لبوں پر آ آ کر واپس مڑ جاتی تھی اور وہ ہمیشہ ہی اپنی بزدلی کو کوستا رہتا تھا۔
سر میں اندر آجاؤں؟ندیم نے اپنے اردو کے لیکچرار سے کمرے کے اندر آنے کی اجازت مانگی شبیر احمد پھول جو اسکے نہ صرف استاد تھے بلکہ اسے بہت اچھے بھی لگتے تھے انکی شخصیت میں جو جاذبیت تھی وہ اس کا دل موہ لیتی تھی اور انکا اندازِ تکلم بھی بہت جاندار ہوا کرتا تھا۔شبیر احمد پھول نے کتاب سے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور مسکراتے ہوئے گویا ہوئےآؤ آؤ ندیم کیا بات ہے ؟وہ سر اگر آپ کے پاس کوئی ٹائم ہے تو آپ سے بات کرنی تھی اگر نہیں ہے تو پھر حاضر ہوجاؤں گا ندیم نے جھجکتے ہوئے کہا۔نہیں میاں ایسے بھی کوئی بزی نہیں ہیں بتاؤ کیا بات ہے شبیر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ساتھ ہی کرسی کی طرف اشارہ کرکےبولے آؤ بیٹھو اور ندیم کو تو جیسے کوئی بہت بڑا تحفہ مل گیا ہو۔
ہاں اب بولو کیا بات ہے ؟سر نے مسکرا کر کہا سر دراصل میں نے ایک غزل لکھی ہے جو میں آپ سے شئیر کرنا چاہتا ہوں ندیم نے کاغذ پر لکھی ہوئی غزل سر کے سامنے کردی
غزل تو کیا اسے آذاد نظم ہی کہا جاسکتا تھا شبیر صاحب جو ایک جانے مانے شاعر بھی تھے نے ایک نظر کاغذ پر ڈالی اور دوسری نظر ندیم کے سراپے پر ڈالی اور پھر کاغذ کو دوبارہ پڑھنے لگے۔ایک مرتبہ پھر نظر اٹھائی اور ندیم کو دیکھا اور گویا ہوئے میاں یہ کام بہت ہی خطرناک ہےدل کا لگانا ایک مشکل کام ہے اور پھر اگر دل لگ جائے تو پھر بچنا ناممکن ہے ۔لگتا ہے دل پر کوئ گہری چوٹ کھا لی ہےجو اب شاعری کرنے کا سوچ رہے ہو۔شبیر احمد جیسے جہاندیدہ شخص سے بھلا کوئی بات چھپ سکتی تھی۔
شبیر صاحب نے مسکراتے ہوئے ندیم سے سوال کیا۔مگر ندیم کی حالت دیکھنے والی تھی جیسے کاٹو تو
بدن میں لہو نہیں۔
زبان بند اور چہرے پر انتہائی دکھ کا سایہ۔شبیر صاحب ایک دم ہی اپنی جگہ سے اٹھے اور شبیر کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور گویا ہوئے ینگ مین ڈونٹ وری سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔انہوں نے گلاس میں پانی انڈیلا اور ندیم کے ہاتھ میں تھما دیا ندیم بھی غٹا غٹ کرکے سب ایک ہی سانس میں پی گیا۔پانی پی کر کچھ حواس بحال ہوئے اور ساتھ ہی شبیر صاحب کے شفقت بھرے لہجے نے تو گویا اسے ایک نیا حوصلہ دے دیا۔کمرے میں ایک دم ہی موت کی سی خاموشی پھیل گئی اور کمرہ ایک ہو کا عالم پیش کرنے لگا۔کچھ دیر بعد جب شبیر صاحب نے محسوس کیا کہ اب اس کے اوسان بحال ہوگئے ہیں تو ندیم کی طرف دیکھتے ہوئے گویا ہوئے ہاں اب بتاو کیا بات ہے۔میں جانتا ہوں کہ تمھارا میرے پاس آنے کا مقصدصرف غزل کی تقطیع و تصیح نہیں تھی اب بتاؤ کیا بات ہے ؟۔شبیر صاحب کے اندازِ تکلم نے اسکا حوصلہ بڑھا دیا اور وہ گویا ہوا۔
ندیم کے چہرے سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ کتنے کرب سے گزر رہا تھا دل کے سمندر میں ایک طوفان تھا جس نے سب کچھ تہہ و بالا کر رکھا تھا ۔ندیم گویا ہوا سر میں زندگی کے ایک بہت بڑے کرب سے گزر رہا ہوں۔ندیم کے لہجے سے ایک دکھ ظاہر ہورہا تھا۔شبیر صاحب نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا ہاں بولو بولو میں سن رہا ہوں۔ندیم دوبارہ گویا ہوا سر آپ کو میں اپنے کچھ حالات بتانا چاہتا ہوں۔
اور سر مجھے آپ پر اس قدر بھروسہ ہے کہ جتنا میں خود اپنے آپ پر اعتماد کرتا ہوں۔اسی لئے میں آج اپنی زندگی کی سب سے اہم بات آپ کو بتانے جارہا ہوں اوردرخواست کروں گا کہ مجھے مشورہ دیں کہ اب میں کیا کروں۔ندیم نے لڑکھڑاتی آواز میں ایک ہی سانس میں کہنا شروع کیا۔ہاں بولو بیٹا میں کوشش کروں گا کہ اپنی زندگی کے تجربے سے تمھیں بہترین مشورہ
!دوں۔بولو کیا بات ہے
سر آج سے چار سال پہلے ہمارے محلے میں ایک گھرانہ آکر آباد ہوا تھا کافی امیر و کبیر لوگ تھے اسد اللہ نام تھا ان کا اور انکے چار بیٹے کویت میں تھے اس لیے کافی امیر و کبیر لوگ تھے۔چار بھائیوں کی ایک ہی بہن تھی ۔نائیلہ نام تھا اس کا۔۔۔۔۔قسمت کہیے یا بدقسمتی سر میں پہلے دن سے ہی اس کو بہت پسند کرنے لگا تھا۔مگر خدا گواہ ہے کہ میں نے کبھی بھی بری نظر سے اسے نہیں دیکھا ۔ایک احترام تھا ایک جذبہ تھا جو دل میں موجود تھا۔اتنا کہہ کر اسنے ایک لمبی سی سانس کھنچی اور کرسی کو ذرا پیچھے کر کے تھوڑا آرام سے بیٹھتے ہوئے دوبارہ گویا ہوا۔سر میں اسکی بہت ہی زیادہ عزت کرتا تھا اور احترام کی نظر سے دیکھتا تھا اسی طرح آہستہ آہستہ وہ میرے دل میں اپنی جگہ مظبوط بناتی گئی اور میں اس دلدل میں پھنستا ہی چلا گیا۔سر میں اکیلے ہی بہت عرصہ یک طرفہ محبت کرتا رہاکبھی اس کو کچھ کہنے سے ہمیشہ ڈرتا رہا کہ کہیں وہ ناراض نہ ہوجائے۔مگر سر آخر کب تک ایسا کرتا ایک دن اس کو بتا ہی دیا کہ میں اس سے کتنی محبت کرتا ہوں یہ میرا خدا ہی جانتا ہے کہ کس قدر مشکل سے اسے یہ بات بتائی تھی۔اتنا کہہ کر اس نے پھر ایک لمبی سانس لی اور پانی کا گلاس منہ سے لگا لیا اور غٹا غٹ سار پانی ایک ہی سانس میں پی گیا۔شبیر صاحب کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری اور ختم ہوگئی۔اور وہ بولے اچھا تو پھر کیا ہوا؟۔ندیم دوبارہ گویا ہوا سر جب میں نے اسے اپنے دل کی بات بتائی تو مسکرائی اور کچھ نہ بولی۔اور پھر تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد ایک دم ہنس پڑی اور کہنے لگی تم بھی مجھے اچھے لگتے ہو۔اتنا کہہ کر وہ چلی گئی اور مجھے ڈھیروں ڈھیروں خوشیاں دے گئی۔سر اسی طرح تین سال سے اوپر کا عرصہ گزر گیا اور وہ اور میں روزانہ ملتے تھے روزانہ ہی وہ میرے گھر آ جاتی تھی اور پھرکچھ کہتی اور کبھی کچھ۔کبھی بہانے بہانے سے بازار سے کچھ منگواتی کبھی کہتی میرا یہ کام کردو کبھی وہ کام کردو ۔اور میں خوشی خوشی سارے کام کر دیا کرتا تھا۔اسی دوران میری امی کو شک پڑ گیا اور وہ بھی میرے پیچھے پڑ گئیں۔ہرروز میری درگت بناتیں۔ مگر سر کیا کرتا لاکھ دل کو سمجھایا کہ جو خواہش میرے دل میں ہے وہ نہیں پوری ہو سکتی کیونکہ ان کے اور ہمارے اسٹیٹس میں بہت فرق تھا۔مگر وہ ہمیشہ مجھے کہتی رہتی کہ''وہ اسٹیٹس کو نہیں مانتی دل کی بات کو زیادہ مانتی ہے''۔ کئی مرتبہ اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے لیے سب کچھ چھوڑ دے گی ۔مگر سر میرا دل پھر بھی ڈرتا ہی رہتا تھا ایک انجانا سا خوف ہر وقت دل میں
موجود رہتا تھا کہ کہیں کوئی گڑ بڑ نہ ہو جائے اور ساری بات نہ بگڑ جائے
اتنا کہہ کر ندیم پھر تھوڑی دیر کو رکا اور ایک اور گلاس پانی کا پینے لگا۔شبیر صاحب بھی کرسی سے اٹھے اور کیٹل میں پانی رکھ کر چائے بنانے لگے۔اتنی دیر کمرے کے ماحول پر ایک گہرا سکوت چھایا رہا۔
جاری ہے
