Friday, May 1, 2009

کاش آپ ہمارے ہوتے


کاش آپ ہمارے ہوتے



آپ تو خواہ مخواہ ہی مجھ پر ہر وقت شک کرتی رہتیں ہیں۔قسم سے میں تو اس طرف سوچتا بھی نہیں۔آپ
کو نہ جانے کیسے یہ خیال آ جاتا ہے۔میں تو بس اپنے کام سے کام رکھتا ہوں اور آپ بس شک ہی کئے جاتیں ہیں مجھ پر ۔ندیم کافی دیر سے اپنی ماں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کسی صورت بھی نائلہ میں دلچسپی نہیں رکھتا۔کیونکہ اسکی ماں ہر وقت ایک ہی بات سوچتی تھی کہ ندیم نائیلہ میں کسی قسم کی دلچسپی رکھے ہوئے ہے۔آخر کیوں نہ سوچتی ایک دن ندیم کی چوری اس نے پکڑ لی تھی جو بیٹھک کی کھڑکی سے چوری چوری گھر سے نکلتی ہوئی نائلہ کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔وہ یوں تو ہر وقت ماں کو یہی بات باور کروانے کی کوشش کیا کرتا تھا کہ اس کی دلچسپی نائیلہ میں نہیں ہے مگر صورت حال اسکے برعکس تھی وہ نہ صرف نائیلہ کو پسند کرتا تھا بلکہ وہ اسکے خوابوں کی رانی تھی جس کے ساتھ ہمیشہ اس نے سہانے سپنے دیکھے تھے ۔وہ بغیر کسی شہوانی جذبات کے اس سے عشقیہ حد تک پیار کرتا تھا۔جو صرف چوری چوری دیکھنے کی حد تک ہی تھا مگر تھا سچا،کھرا اور سُچا پیار۔نائیلہ کے علاوہ اسکی دنیا میں کوئی اور لڑکی نہ کبھی آئی تھی اور نہ کبھی آنے والی تھی۔

وہ ہمیشہ کوشش ہی کرتا رہتا تھا کہ کسی طرح نائیلہ سے حالِ دل کہہ دے مگر شرافت نے اس کو کسی حد تک بزدل بنا ڈالا تھا جو بات لوگ لمحوں میں کہہ ڈالتے تھے اس بات کو کہنے میں اسکو سخت پریشانی کا سامنا تھا اور بات اسکے لبوں پر آ آ کر واپس مڑ جاتی تھی اور وہ ہمیشہ ہی اپنی بزدلی کو کوستا رہتا تھا۔
سر میں اندر آجاؤں؟ندیم نے اپنے اردو کے لیکچرار سے کمرے کے اندر آنے کی اجازت مانگی شبیر احمد پھول جو اسکے نہ صرف استاد تھے بلکہ اسے بہت اچھے بھی لگتے تھے انکی شخصیت میں جو جاذبیت تھی وہ اس کا دل موہ لیتی تھی اور انکا اندازِ تکلم بھی بہت جاندار ہوا کرتا تھا۔شبیر احمد پھول نے کتاب سے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور مسکراتے ہوئے گویا ہوئےآؤ آؤ ندیم کیا بات ہے ؟وہ سر اگر آپ کے پاس کوئی ٹائم ہے تو آپ سے بات کرنی تھی اگر نہیں ہے تو پھر حاضر ہوجاؤں گا ندیم نے جھجکتے ہوئے کہا۔نہیں میاں ایسے بھی کوئی بزی نہیں ہیں بتاؤ کیا بات ہے شبیر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ساتھ ہی کرسی کی طرف اشارہ کرکےبولے آؤ بیٹھو اور ندیم کو تو جیسے کوئی بہت بڑا تحفہ مل گیا ہو۔
ہاں اب بولو کیا بات ہے ؟سر نے مسکرا کر کہا سر دراصل میں نے ایک غزل لکھی ہے جو میں آپ سے شئیر کرنا چاہتا ہوں ندیم نے کاغذ پر لکھی ہوئی غزل سر کے سامنے کردی
غزل تو کیا اسے آذاد نظم ہی کہا جاسکتا تھا شبیر صاحب جو ایک جانے مانے شاعر بھی تھے نے ایک نظر کاغذ پر ڈالی اور دوسری نظر ندیم کے سراپے پر ڈالی اور پھر کاغذ کو دوبارہ پڑھنے لگے۔ایک مرتبہ پھر نظر اٹھائی اور ندیم کو دیکھا اور گویا ہوئے میاں یہ کام بہت ہی خطرناک ہےدل کا لگانا ایک مشکل کام ہے اور پھر اگر دل لگ جائے تو پھر بچنا ناممکن ہے ۔لگتا ہے دل پر کوئ گہری چوٹ کھا لی ہےجو اب شاعری کرنے کا سوچ رہے ہو۔شبیر احمد جیسے جہاندیدہ شخص سے بھلا کوئی بات چھپ سکتی تھی۔
شبیر صاحب نے مسکراتے ہوئے ندیم سے سوال کیا۔مگر ندیم کی حالت دیکھنے والی تھی جیسے کاٹو تو
بدن میں لہو نہیں۔
زبان بند اور چہرے پر انتہائی دکھ کا سایہ۔شبیر صاحب ایک دم ہی اپنی جگہ سے اٹھے اور شبیر کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور گویا ہوئے ینگ مین ڈونٹ وری سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔انہوں نے گلاس میں پانی انڈیلا اور ندیم کے ہاتھ میں تھما دیا ندیم بھی غٹا غٹ کرکے سب ایک ہی سانس میں پی گیا۔پانی پی کر کچھ حواس بحال ہوئے اور ساتھ ہی شبیر صاحب کے شفقت بھرے لہجے نے تو گویا اسے ایک نیا حوصلہ دے دیا۔کمرے میں ایک دم ہی موت کی سی خاموشی پھیل گئی اور کمرہ ایک ہو کا عالم پیش کرنے لگا۔کچھ دیر بعد جب شبیر صاحب نے محسوس کیا کہ اب اس کے اوسان بحال ہوگئے ہیں تو ندیم کی طرف دیکھتے ہوئے گویا ہوئے ہاں اب بتاو کیا بات ہے۔میں جانتا ہوں کہ تمھارا میرے پاس آنے کا مقصدصرف غزل کی تقطیع و تصیح نہیں تھی اب بتاؤ کیا بات ہے ؟۔شبیر صاحب کے اندازِ تکلم نے اسکا حوصلہ بڑھا دیا اور وہ گویا ہوا۔
ندیم کے چہرے سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ کتنے کرب سے گزر رہا تھا دل کے سمندر میں ایک طوفان تھا جس نے سب کچھ تہہ و بالا کر رکھا تھا ۔ندیم گویا ہوا سر میں زندگی کے ایک بہت بڑے کرب سے گزر رہا ہوں۔ندیم کے لہجے سے ایک دکھ ظاہر ہورہا تھا۔شبیر صاحب نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا ہاں بولو بولو میں سن رہا ہوں۔ندیم دوبارہ گویا ہوا سر آپ کو میں اپنے کچھ حالات بتانا چاہتا ہوں۔


اور سر مجھے آپ پر اس قدر بھروسہ ہے کہ جتنا میں خود اپنے آپ پر اعتماد کرتا ہوں۔اسی لئے میں آج اپنی زندگی کی سب سے اہم بات آپ کو بتانے جارہا ہوں اوردرخواست کروں گا کہ مجھے مشورہ دیں کہ اب میں کیا کروں۔ندیم نے لڑکھڑاتی آواز میں ایک ہی سانس میں کہنا شروع کیا۔ہاں بولو بیٹا میں کوشش کروں گا کہ اپنی زندگی کے تجربے سے تمھیں بہترین مشورہ
!دوں۔بولو کیا بات ہے
سر آج سے چار سال پہلے ہمارے محلے میں ایک گھرانہ آکر آباد ہوا تھا کافی امیر و کبیر لوگ تھے اسد اللہ نام تھا ان کا اور انکے چار بیٹے کویت میں تھے اس لیے کافی امیر و کبیر لوگ تھے۔چار بھائیوں کی ایک ہی بہن تھی ۔نائیلہ نام تھا اس کا۔۔۔۔۔قسمت کہیے یا بدقسمتی سر میں پہلے دن سے ہی اس کو بہت پسند کرنے لگا تھا۔مگر خدا گواہ ہے کہ میں نے کبھی بھی بری نظر سے اسے نہیں دیکھا ۔ایک احترام تھا ایک جذبہ تھا جو دل میں موجود تھا۔اتنا کہہ کر اسنے ایک لمبی سی سانس کھنچی اور کرسی کو ذرا پیچھے کر کے تھوڑا آرام سے بیٹھتے ہوئے دوبارہ گویا ہوا۔سر میں اسکی بہت ہی زیادہ عزت کرتا تھا اور احترام کی نظر سے دیکھتا تھا اسی طرح آہستہ آہستہ وہ میرے دل میں اپنی جگہ مظبوط بناتی گئی اور میں اس دلدل میں پھنستا ہی چلا گیا۔سر میں اکیلے ہی بہت عرصہ یک طرفہ محبت کرتا رہاکبھی اس کو کچھ کہنے سے ہمیشہ ڈرتا رہا کہ کہیں وہ ناراض نہ ہوجائے۔مگر سر آخر کب تک ایسا کرتا ایک دن اس کو بتا ہی دیا کہ میں اس سے کتنی محبت کرتا ہوں یہ میرا خدا ہی جانتا ہے کہ کس قدر مشکل سے اسے یہ بات بتائی تھی۔اتنا کہہ کر اس نے پھر ایک لمبی سانس لی اور پانی کا گلاس منہ سے لگا لیا اور غٹا غٹ سار پانی ایک ہی سانس میں پی گیا۔شبیر صاحب کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری اور ختم ہوگئی۔اور وہ بولے اچھا تو پھر کیا ہوا؟۔ندیم دوبارہ گویا ہوا سر جب میں نے اسے اپنے دل کی بات بتائی تو مسکرائی اور کچھ نہ بولی۔اور پھر تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد ایک دم ہنس پڑی اور کہنے لگی تم بھی مجھے اچھے لگتے ہو۔اتنا کہہ کر وہ چلی گئی اور مجھے ڈھیروں ڈھیروں خوشیاں دے گئی۔سر اسی طرح تین سال سے اوپر کا عرصہ گزر گیا اور وہ اور میں روزانہ ملتے تھے روزانہ ہی وہ میرے گھر آ جاتی تھی اور پھرکچھ کہتی اور کبھی کچھ۔کبھی بہانے بہانے سے بازار سے کچھ منگواتی کبھی کہتی میرا یہ کام کردو کبھی وہ کام کردو ۔اور میں خوشی خوشی سارے کام کر دیا کرتا تھا۔اسی دوران میری امی کو شک پڑ گیا اور وہ بھی میرے پیچھے پڑ گئیں۔ہرروز میری درگت بناتیں۔ مگر سر کیا کرتا لاکھ دل کو سمجھایا کہ جو خواہش میرے دل میں ہے وہ نہیں پوری ہو سکتی کیونکہ ان کے اور ہمارے اسٹیٹس میں بہت فرق تھا۔مگر وہ ہمیشہ مجھے کہتی رہتی کہ''وہ اسٹیٹس کو نہیں مانتی دل کی بات کو زیادہ مانتی ہے''۔ کئی مرتبہ اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے لیے سب کچھ چھوڑ دے گی ۔مگر سر میرا دل پھر بھی ڈرتا ہی رہتا تھا ایک انجانا سا خوف ہر وقت دل میں
موجود رہتا تھا کہ کہیں کوئی گڑ بڑ نہ ہو جائے اور ساری بات نہ بگڑ جائے
اتنا کہہ کر ندیم پھر تھوڑی دیر کو رکا اور ایک اور گلاس پانی کا پینے لگا۔شبیر صاحب بھی کرسی سے اٹھے اور کیٹل میں پانی رکھ کر چائے بنانے لگے۔اتنی دیر کمرے کے ماحول پر ایک گہرا سکوت چھایا رہا۔


جاری ہے







عبداللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


عبد اللہ آج بہت خوش تھا ۔اُسکی مدتوں کی خو اہش پوری ہونے جارہی تھی۔سارے گھر والے جانتے تھے کہ ان دنوں کا اس نے کتنی شدت سے انتظار کیا تھا۔ان دنوں کے انتظار میں اس نے دن گن گن کے گزارے تھے کہ کب آئیں گے یہ دن۔۔پچھلے دو دن سے وہ بہت مصروف تھا صبح سویرے گھر سے نکل جاتا تھا اور پھر رات گئے گھر واپس آتا تھا۔یوں تو وہ ایک سبزی فروش تھا اور اپنی گدھا گاڑی پر روزانہ گلی گلی گھوم کر سبزی فروخت کیا کرتا تھا۔ماں باپ نے جوانی میں ،ہی شادی کروا دی تھی اور اب چالیس کے پیٹے میں وہ پانچ بچوں کا باپ تھا۔پورا گھرانہ پانچ بچوں ایک بوڑھی، ماں اور اسکی دو بہنوں، پر مشتمل تھا۔ دونوں بہنوں میں سے ایک کا رشتہ کچھ ہی دن ہوے تھے طے ہوا تھا۔ چھوٹی بہن کا بھی رشتہ نہیں ہوا تھا۔پانچ بچوں ،دو جوانی اور بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی بہنوں کےعلاوہ ایک بوڑھی ماں کا بھی اسے خیال رکھنا پڑتا تھا۔ زندگی ایک احساس ذمہ داری کا نام تھا اس کے لیئے اپنے اور بچوں کی خاطر تو کام کرتا ہی تھا ماں اور بہنوں کے لیئے بھی محنت کرنا پڑتی تھی۔



علی الصبح ہی عبداللہ اٹھ گیا تھا ماں سے دعا کا کہہ کر وہ گھر سے نکل کھڑا ہوا ۔اسکی بہن کا رشتہ پکا ہوا تھا اسی لئے خوشی خوشی گھر سے نکلا تھا یہ سوچتے ہوئے کہ چلو ایک بہن کا رشتہ ہوگیا اب اللہ کرے گا دوسری بہن کا رشتہ بھی جلد ہی ہوجائے۔
اس کا خیال تھا کہ سبزی کے علاوہ بھی اسے کوئی اور کام کرنا پڑے گا تبھی کہیں جاکر وہ اس قابل ہوگا کہ بہن کو دو چار چیزیں دے سکے اور عزت سے رخصت کر سکے۔شہر میں ویسے بھی بہت گھما گہمی تھی سیاسی لیڈر عرصے بعد سالوں کی جلا وطنی کے بعد ملک میں آیا تھا اس لئے سارا ملک ہی اس کے استقبال کے لئے جمع ہو رہا تھا۔اور شہر تھا کہ ایک جشن کا سا سماں پیش کر رہا تھا۔اسی لئے اس نے سوچا چلو موقع اچھا ہے کوئی ایسا کام کرلوں کی ان دو دنوں میں جس قدر کما سکوں کما لوں خدا جانے ایسا موقع دوبارہ ملے یا نہ ملے۔اسی لئے وہ آج بھاگا بھاگا ہول سیل مارکیٹ کی طرف جارہا تھا کہ شربت کی بوتلیں خرید لے تاکہ اس دن وہ سارا دن شربت کی ریڑہی لگا کر جتنا کما سکتا ہے کما لے۔اسے معلوم تھا کہ لوگ دور دراز سے آئیں گے اور انہیں بھوک بھی لگے گی اور پیاس بھی لہذا اس سے اچھا موقع اور کیا ہو سکتا ہے ۔چنانچہ اچھا خاصا سامان لے کر وہ گھر آگیا اور سارے گھر والوں نے مل کر اسکے ساتھ صبح کی تیاری شروع کردی۔
اگلے دن وہ صبح ہی صبح گھر سے نکل پڑا حسبِ معمول ماں کے پاؤں چھوکر دعا کے لئے کہا اور گدھا گاڑی لے کر نکل آیا۔گھر سے نکلتے ہی کام شروع ہوگیا تھا گرمی بھی اپنے زوروں پر تھی اور لوگوں کو پیاس بھی لگتی تھی چنانچہ جس طرح سے آمدنی شروع ہوئی تھی اس کی خوشی کی تو انتہا نہ رہی ۔اسے لگنے لگا تھا کہ اگر اسی طرح کام ہوتا رہا تو کم ازکم آج کے دن میں ہی وہ بارہ سے پندرہ ہزار بنا لے گا۔اورایک دن کی آمدن پانچ مہینے کی آمدن کے برابر ہوجائے گی۔



دن گزرنے کا پتہ بھی نہ چلاکیونکہ وہ سارا دن بہت مصروف رہا تھا اور اب شام کا اندھیرا پھیلنے لگا تھا اب تو جو سامان وہ لے کر آیا تھا تقریباً ختم ہونے والا تھا۔سارا دن وہ قافلے کے ساتھ ساتھ ہی چلتا رہا اورکوشش کر رہاتھا کہ لیڈر کی سواری کے ساتھ ہی رہے۔تاکہ زیادہ سے زیادہ گاہک مل سکیں اس وقت بھی وہ لیڈر کی گاڑی کے قریب ہی اپنی گدھا گاڑی لئے کھڑا تھا۔اچانک ایک کان پھاڑ دینے والی آواز سنائی دی۔ایک خوفناک بم دھماکہ جس نے نہ صرف اسکی ریڑھی کو گدھے سمیت اڑادیا بلکہ اس جیسے کئی بھوکے پیاسوں کے بھی پرخچے اڑادئے۔ساری چیزیں اس کے خوابوں کے ساتھ ہوامیں دھواں بن کررہ گئیں۔اپنی جاں بلبی کی حالت میں ماں بہنوں اوربچوں کے چہرے دکھائی دے رہے تھے۔کہ اچانک شوراٹھا کہ

صاحب کو دیکھو!

صاحب کو بچاؤ!

صاحب کی حفاظت کرو !

۔ اس نے پوری طاقت سے سراٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی اور دھندلائی آنکھوں سے اتنا ہی دیکھ پایا کہ لوگ اس جیسے کئی تڑپتے لوگوں کے اوپر سے پھلانگتے ہوئے دیوانہ وار صاحب کی گاڑی کی طرف بڑھے چلے جارہے تھے۔اسکے مردہ چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ابھری اوراسکا سر ایک طرف کو ڈھلک گیا۔